10 MEHERM

User avatar
imtiaz_2007
Registered Member
Registered Member
Posts: 269
Joined: 15 Oct 2013, 3:10 am
Location: hong kong
Contact:

10 MEHERM

Post by imtiaz_2007 » 15 Sep 2018, 9:52 am

کربلا والوں پر رونا!
آج ہم محرم چودہ سو چالیس کے عرصہ سے گزر رہے ہیں۔ ریگزار کربلا پر نواسہء رسول، جگر گوشہء علی و بتول ع کی قربانی کو ایک ہزار تین سو اسی سال گزر چکے، مگر عاشقان پاک طینت کے لئے یہ سانحہ آج بھی اسی طرح تازہ ہے جسطرح وہ خود اس واقعے کا ایک کردار ہوں۔
مگر دوسری طرف چند مسلمان حلقوں میں محرم کے آتے ہی شدید بے چینی پھیل جاتی ہے۔ عزاداری ء مظلوم کربلا اور اس سے وابستہ مراسم پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھتے ہیں۔ کبھی اس کو بدعت اور کبھی کفر و شرک کے فتوے لگتے نظر آتے ہیں۔ عزاداروں کا قتل امت اپنے اوپر واجب جان کر ہر سال محرم کو ان کے خون سے سرخ کردیتی ہے ۔
قارئین آئیے اس مختصرتحریرمیں ہم تجزیہ کریں کہ عزاداری ہے کیا؟
عزاداری کو اردو زبان میں سوگ، دکھ، اندوہ اور اظہار دکھ کہتے ہیں۔۔یا یوں کہیے کہ اسکا مطلب ہے شرک غم ہونا۔ موت اور ناگہانی حادثات پر دکھ کا احساس اور اظہار، زندہ لوگوں کا فطری رد عمل ہوتا ہے۔ یہی نہیں، جانور بھی اپنے بچے کے مر جانے پر افسردہ ہوتے ہیں اور آہ و بُکا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے بدو رونے کو کمزری اور نحوست کا سبب جانتے تھے اس لئے انکے نزدیک جو جتنا سنگ دل اور شقی تھا وہ اتنا ہی محترم تھا، مگر اسلام دلوں کو رقیق اور گداز کرتا ہے۔ اسلام بے حسی کو احساس سے بدلتا ہے اور شقاوت کو کریمی سے بدلتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں کسی کے ہمسائے میں موت ہوجائے تو لوگ اپنے گھر کی رونق کو چھپا دیتے ہیں۔ آتا ہوا جنازہ دیکھ کر مسافر راستہ چھوڑ دیتے ہیں، لواحقین کے گلے لگ کر ڈھارس دیتے ہیں، محلے میں فوتگی ہو جائے تو پورے محلے کے لوگ اکٹھے ہو کر تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے ہیں، دکھ بانٹتے ہیں، اور سکھ دینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ کوئی مرنے والے کے گھر کھانا لاتا ہے تو کوئی انکے مہمان اپنے گھر لے جاتا ہے۔ کوئی یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھتا ہے تو دوسرا انکے روزگار کی فکر کرتا ہے۔ ان سب کاوشوں اور کوششوں کو ایک جملے میں جب بیان کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم آپکے غم میں شریک ہیں۔
تاریخ اسلامی گواہ ہے کہ جنگ احد میں جناب حمزہ شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے شہید چچا کو سوگ نہ صرف خؤد منایا، بلکہ اہل اسلام سے تقاضا کیا کہ میرے شہید چچا کا سوگ منایا جائے۔
جب بھی کوئی یتیم ہوتا، سرکار رسالتمآب اسکے سر پر دست شفقت رکھتے اور اسکی یاوری فرماتے۔ لوگوں کو آداب معاشرت سکھلائے تو فرمایا کہ مرنے والے کے لواحقین کی خبر گیری کرو، ان پر بوجھ مت بنو، بلکہ ان کا ساتھ دو۔ جنازوں کی مشایعت کرو چاہے مرنے والا عبد اللہ ابن اُبی جیسا منافق ہی کیوں نہ ہو۔
ہم اپنے اور اپنے معاشرے کے مرنے والوں کا غم تو روا رکھیں مگر اللہ کے حبیب کے گھر والوں کا غم کرتے ہوئے آخر ہمیں کیوں شرک اور بدعت نظر آنے لگتی ہے۔ اللہ تو قران میں کہتا ہے کہ النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ
یعنی کہ اللہ کا نبی، مؤمنین پر انکے نفوس سے زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر مجھے میرے نفس پر اختیار ہے تو میرے نبی کا حق اس سے زیادہ ہے۔ اگر میرے پاس دولت ہے تو میرے نبی کا حق اس پر میری نسبت زیادہ ہے۔ اگر میری اولاد ہے تو اس پربھی میرے نبی کا حق مجھ سے پہلے ہے تو پھر کیونکر نبی کے گھر کا غم میرے ہر غم سے پہلے نہ منایا جائے اور کیوں نہ اس غم کی عمر ، ہر ایک غم سے بڑی ہو۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس عمل کا نام بدعت ہے؟
کیا رونا دھونا بدعت ہے جو فطرت کا تقاضا ہے؟ انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکی پہلی صدا رونے سے شروع ہوتی ہے۔ کیا یہ بچے کارونا بدعت ہے جبکہ اپنی پیدائیش پر ہر انسان اس منزل پر ہے جسے قران احسن تقویم کہ کر یاد کرتا ہے؟ اگر بڑے کا رونا بدعت ہے تو پھر رسول اللہ نے جناب امیر حمزہ کی شہادت پر حضور ص اونچی آواز سے کیونکر روئے؟ یہی نہیں، امام احمد بن حنبل اپنی مُسند میں کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک جب انصار کے یہاں کوئی مرتا وہ لوگ حمزہ کا یاد کر کے روتے تا کہ رسول اللہ کا حق اولیٰ زندہ رہے مسند احمد، رقم4984 ۔
اپنے چچا جناب ابو طالب اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی وفات پر حضور سارے سال کا غم کا سال کہ دیں اور امت کو ایک دن کا سوگ بھی برداشت نہیں۔
صحابی قیس بن عاصم زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرنے کی کہانی سناتا ہے تو یہ کہانی سن کر زمانے کا رسول رونے لگتا ہے اور اسے فرمایا کہ صحابیت اپنی جگہ مگر جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا، تیرا انجام سخت ہے، توبہ کرو۔ رؤف و رحیم رسول کسی کی مصیبت سن کر رونے لگتے ہیں مگر یہ امت خود رسول ص کی مصیبت پر رونے کو بدعت کہتی ہے۔
اگر ہم قران کی طرف رجوع کریں تو قرآن تو جنا ب یعقوب علیہ السلام کے اپنے زندہ بیٹے پر رونے کو احسن القصص کہ کر بیان کرتا ہے۔ پس تو قارئین رونا تو ثابت ہے کہ بدعت نہیں ہے۔
تو کیا پھر ماتم بدعت ہے؟ چناچہ عرض ہے کہ خود ام المؤمنین بی بی عائیشہ رضی اللہ عنھا نے بھی رسول اللہ ص کے وصال حسرت مآل پر سینہ کوبی ہے۔ ام احمد بن حنبل ابن اسحاق کے طریق سے روایت نقل کری ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا کے وصال کے بعد میں نے آنحضرت کا سر اقدس تکیہ پر رکھدیا اور میں خود کھڑی ہوگئی اور دیگر عورتوں کے ساتھ سینہ کوبی کرنے لگی اور اپنے چہرے کو پیٹنے لگی ۔ روایت کے الفاظ کچھ اسطرح ہیں
" و قمت ألتدم مع النساء و أضرب وجهي "
المسند للأحمد//رقم الحدیث 26226
اب قران کی طرف رجوع کریں تو ملت ابراہیمی پر حنیفاً قائم رہنے والوں کے لئے جناب ابراہیم ؑ کی زوجہ بی بی سارہ ؑ کا عمل بیان ہوتا ہے جہاں جناب اسحاق کی ولادت کی خوشخبری فرشتوں کی زبانی سن کر بی بی پیٹنے لگیں کہ میں تو ضعیف اور بانجھ ہوگئی، اب کیونکر ہمیں اولاد ملے گی۔ سورہ ذاریات میں آیت نمبر 29 ملاحظہ ہو کہ فرمایا کہ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ۔ دو دفرشتوں اور ایک نبی کے سامنے بی بی ایک ایسی بات پر ماتھا پیٹ رہی ہیں جو سبب مظلومیت بھی نہیں اور خبر بد بھی نہیں، مگر اک مھض خوف ہے اپنے بانجھ پن کا۔ مگر یہاں نہ فرشتوں نے ٹوکا نہ اللہ کے نبی، بلکہ بی بی کا ماتھا پیٹنا سن کر فرشتوں نے اور بھی تسلی دی او ر کہا بس آپ نے کے علیم و حیک رب نے یہی کہا ہے ۔۔۔گویا یہ ممکن ہے، آپ گھبرائیے نہیں۔

تو گویا اسلام نہ رونے کو منع کرتا ہے نہ سینہ زنی و ماتم کو۔ تو پھر عزاداریء امام حسین ؑ میں وہ کون سا عمل ہو جاتا ہے جسے امت بدعت کہ کہ کر تھکے جاتی ہے؟
کیا علم اٹھانا بدعت ہے؟ اگر علم اٹھانا بدعت ہے تو پھر ہر جماعت کو اور خاص طور پر سعودی عرب کو اپنا قومی پرچم فی الفور دفن کر دینا چاہیئے۔ اگر شبیہیں بنانا حرام ہیں تو سعودی پرچم پر کس تلوار کی شبیہہ ہے، کس الہامی کتاب سے لیکر یہ تلوار اپنے جھنڈے پر سجائی گئی ہے۔ حج پر جانے والوں سے پوچھیں کہ بھیا شیطان کو پتھر مارے تو جواب دیں گے یقینا ً رمی الجمرات کیا۔ مگر پوچھیں کہ کیا شیطان سعودی عرب میں مل جاتا ہے تو بتائیں گے کہ نہیں بھائی تین پتھر ہیں جو صدی در صدی شیطان کی شبیہہ بنے بیٹھے ہیں، بس انہی کو پتھر مار کر جی ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ حاجی صاحبان خود کبھی بی بی مریم سلام اللہ علیھا کی شبیہہ بن کر سعی کرتے ہیں تو کبھی جناب ابراہیم خلیل اللہ کی تاسی میں طواف کعبہ کرتے ہیں اورانکے دنبے کی یاد میں دنبےقربان کرتے ہیں۔ بُت شکنی کا دعویٰ کرنے والی امت کے ہر فرد کی خواہش کہ کسی طرح حجر اسود کو چوم لے اور چشمہء زمزم سے سیر ہوکر پانی پی لے کہ یہ وہ چشمہ ہے جو اللہ نے اپنی نبی کے پاؤں رگڑنے کی جگہ پر پیدا کیا۔
پھر قران کی طرف رجوع کریں تو سورہ بقرہ آیت 248 میں آل موسیٰ و ہاورن کا ترکہ اٹھانے والے صاحب تابوت کو اللہ بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کرے اور امت کو حکم ہو اکہ اسکی اطاعت کرو،مگر آل محمد و علی کا ترکہ اٹھانے والی تابوتیوں پر مسلمانوں کو آخر اتنا غم و غصہ کیوں؟
قارئین، سچ یہی ہے کہ نہ رونا بدعت ہے، نہ ماتم و شبیہہ اٹھانا بدعت ہے۔ یہ قران سے بھی عمل صالحین کے طور پر ثابت ہیں اور سنت رسول دوسرا سے بھی۔
نواسہء رسول ص کے غم میں رونا حقیقت میں صرف ان لوگوں کے بس کا روگ ہے جن کے نزدیک اللہ کے رسول کا غم دنیا ہے ہر غم سے پہلے ہے۔ جن لوگوں کو اس رونے اور ماتم پر اعتراض ہے، ان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور اندازہ کریں کہ وہ حقیقت میں کس کی امت ہیں؟ کس کے دین پر عمل پیرا ہیں اور کس کو راضی کر رہے ہیں۔
(تحریر سید مصباح حسین۔ جملہ حقوق نقل محفوظ ہیں)۔